کلامِ اصغرردیف الف

آلام روزگار کو آساں بنا دیا

۱

آلام روزگار کو آساں بنا دیاجو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیا

۲

میں کامیاب دید بھی محروم دید بھیجلووں کے اژدہام نے حیراں بنا دیا

۳

یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئییوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

۴

کچھ شورشوں کی نذر ہوا خون عاشقاںکچھ جم کے رہ گیا اسے حرماں بنا دیا

۵

اے شیخ وہ بسیط حقیقت ہے کفر کیکچھ قید رسم نے جسے ایماں بنا دیا

۶

کچھ آگ دی ہوس میں تو تعمیر عشق کیجب خاک کر دیا اسے عرفاں بنا دیا

۷

کیا کیا قیود دہر میں ہیں اہل ہوش کےایسی فضائے صاف کو زنداں بنا دیا

۸

اک برق تھی ضمیر میں فطرت کے موجزنآج اس کو حسن و عشق کا ساماں بنا دیا

۹

مجبورئ حیات میں راز حیات ہےزنداں کو میں نے روزن زنداں بنا دیا

۱۰

وہ شورشیں نظام جہاں جن کے دم سے ہےجب مختصر کیا انہیں انساں بنا دیا

۱۱

ہم اس نگاہ ناز کو سمجھے تھے نیشترتم نے تو مسکرا کے رگ جاں بنا دیا

۱۲

بلبل بہ آہ و نالہ و گل مست رنگ و بومجھ کو شہید رسم گلستاں بنا دیا

۱۳

کہتے ہیں اک فریب مسلسل ہے زندگیاس کو بھی وقف حسرت و حرماں بنا دیا

۱۴

عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میںساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا

۱۵

اس حسن کاروبار کو مستوں سے پوچھئےجس کو فریب ہوش نے عصیاں بنا دیا

۷ / ۳۹