کلامِ اصغرردیف ح

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح

۱

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرحمیں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرح

۲

مجھے سمجھ کہ میں ہی اصل راز کائنات ہوںدھرا ہوں تیرے سامنے کھلی کتاب کی طرح

۳

میں کوئی گیت ہوں مگر صدا کی بندشوں میں ہوںمرے لہو میں راگ ہے سم عذاب کی طرح

۴

مری پناہ گاہ تھی انہی خلاؤں میں کہیںمیں سطح آب پر رہا حباب آب کی طرح

۵

میں اصغرؔ حزیں کبھی کسی کے دوستوں میں تھاوہ دن بھی مجھ کو یاد ہیں خیال خواب کی طرح

۸ / ۳۹