کلامِ اصغرردیف ے
وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے
وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائےکلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے
نظر وہ ہے جو اس کون و مکاں سے پار ہو جائےمگر جب روئے تاباں پر پڑے بے کار ہو جائے
تبسم کی ادا سے زندگی بیدار ہو جائےنظر سے چھیڑ دے رگ رگ مری ہشیار ہو جائے
تجلی چہرۂ زیبا کی ہو کچھ جام رنگیں کیزمیں سے آسماں تک عالم انوار ہو جائے
تم اس کافر کا ذوق بندگی اب پوچھتے کیا ہوجسے طاق حرم بھی ابروئے خم دار ہو جائے
سحر لائے گی کیا پیغام بیداری شبستاں میںنقاب رخ الٹ دو خود سحر بیدار ہو جائے
یہ اقرار خودی ہے دعوئ ایمان و دیں کیساترا اقرار جب ہے خود سے بھی انکار ہو جائے
نظر اس حسن پر ٹھہرے تو آخر کس طرح ٹھہرےکبھی خود پھول بن جائے کبھی رخسار ہو جائے
کچھ ایسا دیکھ کر چپ ہوں بہار عالم امکاںکوئی اک جام پی کر جس طرح سرشار ہو جائے
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سےاگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
۲۰ / ۳۹