کلامِ اصغرردیف ی
ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی
۱
ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھییہ بھی کیا گھر ہے کہ ہے برباد بھی آباد بھی
۲
دل کے مٹنے کا مجھے کچھ اور ایسا غم نہیںہاں مگر اتنا کہ ہے اس میں تمہاری یاد بھی
۳
کس کو یہ سمجھایئے نیرنگ کار عاشقیتھم گئے اشک مسلسل رک گئی فریاد بھی
۴
سینے میں درد محبت راز بن کر رہ گیااب وہ حالت ہے کہ کر سکتے نہیں فریاد بھی
۵
پھاڑ ڈالوں گا گریباں پھوڑ لوں گا اپنا سرہے مرے آفت کدے میں قیس بھی فرہاد بھی
۶
کچھ تو اصغرؔ مجھ میں ہے قائم ہے جس سے زندگیجان بھی کہتے ہیں اس کو اور ان کی یاد بھی
۱۹ / ۳۹