کلامِ اصغرردیف ے
یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے
یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہےقطرہ میں سمندر ہے ذرہ میں بیاباں ہے
ہے عشق کہ محشر میں یوں مست و خراماں ہےدوزخ بگریباں ہے فردوس بہ داماں ہے
ہے عشق کی شورش سے رعنائی و زیبائیجو خون اچھلتا ہے وہ رنگ گلستاں ہے
پھر گرم نوازش ہے ضو مہر درخشاں کیپھر قطرۂ شبنم میں ہنگامۂ طوفاں ہے
اے پیکر محبوبی میں کس سے تجھے دیکھوںجس نے تجھے دیکھا ہے وہ دیدۂ حیراں ہے
سو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیاجب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں ہے
اک شورش بے حاصل اک آتش بے پرداآفت کدۂ دل میں اب کفر نہ ایماں ہے
دھوکا ہے یہ نظروں کا بازیچہ ہے لذت کاجو کنج قفس میں تھا وہ اصل گلستاں ہے
اک غنچۂ افسردہ یہ دل کی حقیقت تھییہ موجزنی خوں کی رنگینئ پیکاں ہے
یہ حسن کی موجیں ہیں یا جوش تبسم ہےاس شوخ کے ہونٹوں پر اک برق سی لرزاں ہے
اصغرؔ سے ملے لیکن اصغرؔ کو نہیں دیکھااشعار میں سنتے ہیں کچھ کچھ وہ نمایاں ہے
۲۲ / ۳۹