کلامِ اصغرردیف ے
شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئے
شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئےجب جان پر بنی ہو تو کیا کیا نہ چاہیئے
ساقی تری نگاہ کو پہچانتا ہوں میںمجھ سے فریب ساغر و مینا نہ چاہیئے
یہ آستان یار ہے صحن حرم نہیںجب رکھ دیا ہے سر تو اٹھانا نہ چاہیئے
خود آپ اپنی آگ میں جلنے کا لطف ہےاہل تپش کو آتش سینا نہ چاہیئے
کیا کم ہیں ذوق دید کی جلوہ فرازیاںآنکھوں کو انتظار تماشا نہ چاہیئے
وہ بارگاہ حسن ادب کا مقام ہےجز درد و اشتیاق تقاضا نہ چاہیئے
تیغ ادا میں اس کے ہے اک روح تازگیہم کشتگان شوق کو مر جانا چاہیئے
ہستی کے آب و رنگ کی تعبیر کچھ تو ہومجھ کو فقط یہ خواب زلیخا نہ چاہیئے
اس کے سوا تو معنئ مجنوں بھی کچھ نہیںایسا بھی ربط صورت لیلیٰ نہ چاہیئے
ٹھہرے اگر تو منزل مقصود پھر کہاںساغر بکف گرے تو سنبھلنا نہ چاہیئے
اک جلوہ خال و خط سے بھی آراستہ سہیداماندگی ذوق تماشہ نہ چاہیئے
سب اہل دید بے خود و حیران و مست ہیںکوئی اگر نہیں ہے تو پروا نہ چاہیئے
اصغرؔ صنم پرست سہی پھر کسی کو کیااہل حرم کو کاوش بے جا نہ چاہیئے
۲۳ / ۳۹