کلامِ اصغرردیف ے

رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتے

۱

رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتےسامنے لا کر تجھے اپنا تماشا دیکھتے

۲

کم سے کم حسن تخیل کا تماشا دیکھتےجلوۂ یوسف تو کیا خواب زلیخا دیکھتے

۳

کچھ سمجھ کر ہم نے رکھا ہے حجاب دہر کوتوڑ کر شیشے کو پھر کیا رنگ صہبا دیکھتے

۴

روز روشن یا شب مہتاب یا صبح چمنہم جہاں سے چاہتے وہ روئے زیبا دیکھتے

۵

قلب پر گرتی تڑپ کر پھر وہی برق جمالہر بن مو میں وہی آشوب و غوغا دیکھتے

۶

صد زماں و صد مکاں و ایں جہاں و آں جہاںتم نہ آ جاتے تو ہم وحشت میں کیا کیا دیکھتے

۷

اس طرح کچھ رنگ بھر جاتا نگاہ شوق میںجلوہ خود بیتاب ہو جاتا وہ پردا دیکھتے

۸

جن کو اپنی شوخیوں پر آج اتنا ناز ہےوہ کسی دن میری جان ناشکیبا دیکھتے

۹

مے کدے میں زندگی ہے شور نوشا نوش ہےمٹ گئے ہوتے اگر ہم جام و مینا دیکھتے

۲۴ / ۳۹