کلامِ اصغرردیف ے

پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے

۱

پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئےمیں بھی ہوں اک حباب میں دریا لئے ہوئے

۲

رگ رگ میں اور کچھ نہ رہا جز خیال دوستاس شوخ کو ہوں آج سراپا لئے ہوئے

۳

سرمایۂ حیات ہے حرمان عاشقیہے ساتھ ایک صورت زیبا لئے ہوئے

۴

جوش جنوں میں چھوٹ گیا آستان یارروتے ہیں منہ میں دامن صحرا لئے ہوئے

۵

اصغرؔ ہجوم درد غریبی میں اس کی یادآئی ہے ایک طلسمی تمنا لئے ہوئے

۲۵ / ۳۹