کلامِ اصغرردیف ے
نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے
۱
نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنےجان مے خانہ تری نرگس مستانہ بنے
۲
پرتو رخ کے کرشمے تھے سر راہ گزرذرے جو خاک سے اٹھے وہ صنم خانہ بنے
۳
کار فرما ہے فقط حسن کا نیرنگ کمالچاہے وہ شمع بنے چاہے وہ پروانہ بنے
۴
اس کو مطلوب ہیں کچھ قلب و جگر کے ٹکڑےجیب و دامن نہ کوئی پھاڑ کے دیوانہ بنے
۵
رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائےجس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے
۲۶ / ۳۹