کلامِ اصغرردیف ے
مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے
مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہےیہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہے
شمیم گلشن نسیم صحرا شعاع خورشید موج دریاہر ایک گرم سفر ہے ان میں میرا کوئی ہم سفر نہیں ہے
نظر میں وہ گل سما گیا ہے، تمام ہستی پہ چھا گیا ہےچمن میں ہوں یا قفس میں ہوں میں، مجھے اب اس کی خبر نہیں ہے
چمک دمک پر مٹا ہوا ہے، یہ باغباں تجھ کو کیا ہوا ہےفریب شبنم میں مبتلا ہے چمن کی اب تک خبر نہیں ہے
یہ مجھ سے سن لے تو راز پنہاں سلامتی خود ہے دشمن جاںکہاں سے راہ رو میں زندگی ہو کہ راہ جب پر خطر نہیں ہے
میں سر سے پا تک ہوں مے پرستی تمام شورش تمام مستیکھلا ہے مجھ پر یہ راز ہستی کہ مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں ہے
ہوا کو موج شراب کر دے فضا کو مست و خراب کر دےیہ زندگی کو شباب کر دے نظر تمہاری نظر نہیں ہے
پڑا ہے کیا اس کے در پہ اصغرؔ وہ شوخ مائل ہے امتحاں پرثبوت دے زندگی کا مر کر نیاز اب کارگر نہیں ہے
۲۷ / ۳۹