کلامِ اصغرردیف ے

مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے

۱

مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہےیہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہے

۲

شمیم گلشن نسیم صحرا شعاع خورشید موج دریاہر ایک گرم سفر ہے ان میں میرا کوئی ہم سفر نہیں ہے

۳

نظر میں وہ گل سما گیا ہے، تمام ہستی پہ چھا گیا ہےچمن میں ہوں یا قفس میں ہوں میں، مجھے اب اس کی خبر نہیں ہے

۴

چمک دمک پر مٹا ہوا ہے، یہ باغباں تجھ کو کیا ہوا ہےفریب شبنم میں مبتلا ہے چمن کی اب تک خبر نہیں ہے

۵

یہ مجھ سے سن لے تو راز پنہاں سلامتی خود ہے دشمن جاںکہاں سے راہ رو میں زندگی ہو کہ راہ جب پر خطر نہیں ہے

۶

میں سر سے پا تک ہوں مے پرستی تمام شورش تمام مستیکھلا ہے مجھ پر یہ راز ہستی کہ مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

۷

ہوا کو موج شراب کر دے فضا کو مست و خراب کر دےیہ زندگی کو شباب کر دے نظر تمہاری نظر نہیں ہے

۸

پڑا ہے کیا اس کے در پہ اصغرؔ وہ شوخ مائل ہے امتحاں پرثبوت دے زندگی کا مر کر نیاز اب کارگر نہیں ہے

۲۷ / ۳۹