کلامِ اصغرردیف ے
کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے
کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہےغبار قیس خود اٹھتا ہے خود برباد ہوتا ہے
قفس کیا حلقہ ہائے دام کیا رنج اسیری کیاچمن پر مٹ گیا جو ہر طرح آزاد ہوتا ہے
یہ سب نا آشنائے لذت پرواز ہیں شایداسیروں میں ابھی تک شکوۂ صیاد ہوتا ہے
بہار سبزہ و گل ہے کرم ہوتا ہے ساقی کاجواں ہوتی ہے دنیا مے کدہ آباد ہوتا ہے
بنا لیتا ہے موج خون دل سے اک چمن اپناوہ پابند قفس جو فطرتا آزاد ہوتا ہے
بہار انجام سمجھوں اس چمن کا یا خزاں سمجھوںزبان برگ گل سے مجھ کو کیا ارشاد ہوتا ہے
ازل میں اک تجلی سے ہوئی تھی بے خودی طاریتمہیں کو میں نے دیکھا تھا کچھ ایسا یاد ہوتا ہے
سمائے جا رہے ہیں اب وہ جلوے دیدہ و دل میںیہ نظارہ ہے یا ذوق نظر برباد ہوتا ہے
زمانہ ہے کہ خوگر ہو رہا ہے شور و شیون کایہاں وہ درد جو بے نالہ و فریاد ہوتا ہے
یہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاریجہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے
یہاں مستوں کے سر الزام ہستی ہی نہیں اصغرؔپھر اس کے بعد ہر الزام بے بنیاد ہوتا ہے
۲۸ / ۳۹