کلامِ اصغرردیف ے
خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے
خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سےکہ اس کو ڈھونڈھتے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے
تڑپنا ہے نہ جلنا ہے، نہ جل کر خاک ہونا ہےیہ کیوں سوئی ہوئی ہے فطرت پروانہ برسوں سے
کوئی ایسا نہیں یا رب کہ جو اس درد کو سمجھےنہیں معلوم کیوں خاموش ہے دیوانہ برسوں سے
کبھی سوز تجلی سے اسے نسبت نہ تھی گویاپڑی ہے اس طرح خاکستر پروانہ برسوں سے
ترے قربان ساقی اب وہ موج زندگی کیسینہیں دیکھی ادائے لغزش مستانہ برسوں سے
مری رندی عجب رندی مری مستی عجب مستیکہ سب ٹوٹے پڑے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے
حسینوں پر نہ رنگ آیا نہ پھولوں میں بہار آئینہیں آیا جو لب پر نغمۂ مستانہ برسوں سے
کھلی آنکھوں سے ہوں حسن حقیقت دیکھنے والاہوئی لیکن نہ توفیق در بت خانہ برسوں سے
لباس زہد پر پھر کاش نذر آتش صہباکہاں کھوئی ہوئی ہے جرأت رندانہ برسوں سے
جسے لینا ہو آ کر اس سے اب درس جنوں لے لےسنا ہے ہوش میں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے
۲۹ / ۳۹