کلامِ اصغرردیف ے

خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے

۱

خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سےکہ اس کو ڈھونڈھتے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے

۲

تڑپنا ہے نہ جلنا ہے، نہ جل کر خاک ہونا ہےیہ کیوں سوئی ہوئی ہے فطرت پروانہ برسوں سے

۳

کوئی ایسا نہیں یا رب کہ جو اس درد کو سمجھےنہیں معلوم کیوں خاموش ہے دیوانہ برسوں سے

۴

کبھی سوز تجلی سے اسے نسبت نہ تھی گویاپڑی ہے اس طرح خاکستر پروانہ برسوں سے

۵

ترے قربان ساقی اب وہ موج زندگی کیسینہیں دیکھی ادائے لغزش مستانہ برسوں سے

۶

مری رندی عجب رندی مری مستی عجب مستیکہ سب ٹوٹے پڑے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے

۷

حسینوں پر نہ رنگ آیا نہ پھولوں میں بہار آئینہیں آیا جو لب پر نغمۂ مستانہ برسوں سے

۸

کھلی آنکھوں سے ہوں حسن حقیقت دیکھنے والاہوئی لیکن نہ توفیق در بت خانہ برسوں سے

۹

لباس زہد پر پھر کاش نذر آتش صہباکہاں کھوئی ہوئی ہے جرأت رندانہ برسوں سے

۱۰

جسے لینا ہو آ کر اس سے اب درس جنوں لے لےسنا ہے ہوش میں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے

۲۹ / ۳۹