کلامِ اصغرردیف ے
جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے
۱
جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہےپردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے
۲
نیرنگ تماشا وہ جلوا نظر آتا ہےآنکھوں سے اگر دیکھو پردہ نظر آتا ہے
۳
لو شمع حقیقت کی اپنی ہی جگہ پر ہےفانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے
۴
اے پردہ نشیں ضد ہے کیا چشم تمنا کوتو دفتر گل میں بھی رسوا نظر آتا ہے
۵
نظارہ بھی اب گم ہے بے خود ہے تماشائیاب کون کہے اس کو جلوا نظر آتا ہے
۶
جو کچھ تھی یہاں رونق سب باد چمن سے تھیاب کنج قفس مجھ کو سونا نظر آتا ہے
۷
احساس میں پیدا ہے پھر رنگ گلستانیپھر داغ کوئی دل میں تازہ نظر آتا ہے
۸
تھی فرد عمل اصغرؔ کیا دست مشیت میںاک ایک ورق اس کا سادا نظر آتا ہے
۳۰ / ۳۹