کلامِ اصغرردیف ے

جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہے

۱

جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہےاے شعبدہ پرداز یہ کیا طرز نظر ہے

۲

سینے میں یہاں دل ہے نہ پہلو میں جگر ہےاب کون ہے جو تشنۂ پیکان نظر ہے

۳

ہے تابش انوار سے عالم تہہ و بالاجلوہ وہ ابھی تک تہہ دامان نظر ہے

۴

کچھ ملتے ہیں اب پختگی عشق کے آثارنالوں میں رسائی ہے نہ آہوں میں اثر ہے

۵

ذروں کو یہاں چین نہ اجرام فلک کویہ قافلہ بے تاب کہاں گرم سفر ہے

۶

خاموش یہ حیرت کدۂ دہر ہے اصغرؔجو کچھ نظر آتا ہے وہ سب طرز نظر ہے

۳۱ / ۳۹