کلامِ اصغرردیف ے

جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے

۱

جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسےجنت ہے ایک خون تمنا کہیں جسے

۲

اس جلوہ گاہ حسن میں چھایا ہے ہر طرفایسا حجاب چشم تماشا کہیں جسے

۳

یہ اصل زندگی ہے یہ جان حیات ہےحسن مذاق شورش سودا کہیں جسے

۴

میرے وداع ہوش کو اتنا بھی ہے بہتیہ آب و رنگ حسن کا پردا کہیں جسے

۵

اکثر رہا ہے حسن حقیقت بھی سامنےاک مستقل سراب تمنا کہیں جسے

۶

اب تک تمام فکر و نظر پر محیط ہےشکل صفات معنی اشیا کہیں جسے

۷

ہر موج کی وہ شان ہے جام شراب میںبرق فضائے وادئ سینا کہیں جسے

۸

زندانیوں کو آ کے نہ چھیڑا کرے بہتجان بہار نکہت رسوا کہیں جسے

۹

اس ہول دل سے گرم رو عرصۂ وجودمیرا ہی کچھ غبار ہے دنیا کہیں جسے

۱۰

سرمستیوں میں شیشۂ مے لے کے ہاتھ میںاتنا اچھال دیں کہ ثریا کہیں جسے

۱۱

شاید مرے سوا کوئی اس کو سمجھ سکےوہ ربط خاص رنجش بے جا کہیں جسے

۱۲

میری نگاہ شوق پہ اب تک ہے منعکسحسن خیال شاہد زیبا کہیں جسے

۱۳

دل جلوہ گاہ حسن بنا فیض عشق سےوہ داغ ہے کہ شاہد رعنا کہیں جسے

۱۴

اصغرؔ نہ کھولنا کسی حکمت مآب پرراز حیات ساغر و مینا کہیں جسے

۳۲ / ۳۹