کلامِ اصغرردیف ے

عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے

۱

عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہےساری خطا مرے دل شورش ادا کی ہے

۲

مستانہ کر رہا ہوں رہ عاشقی کو طےکچھ ابتدا کی ہے نہ خبر انتہا کی ہے

۳

کھلتے ہی پھول باغ میں پژمردہ ہو چلےجنبش رگ بہار میں موج فنا کی ہے

۴

ہم خستگان راہ کو راحت کہاں نصیبآواز کان میں ابھی بانگ درا کی ہے

۵

ڈوبا ہوا سکوت میں ہے جوش آرزواب تو یہی زبان مرے مدعا کی ہے

۶

لطف نہان یار کا مشکل ہے امتیازرنگت چڑھی ہوئی ستم برملا کی ہے

۳۳ / ۳۹