کلامِ اصغرردیف ے
عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہے
۱
عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہےحسن بے پردا نہیں ہوتا مگر دستور ہے
۲
خستگی نے کر دیا اس کو رگ جاں سے قریبجستجو ظالم کہے جاتی تھی منزل دور ہے
۳
لے اسی ظلمت کدہ میں اس سے محرومی کی داداس سے آگے اے دل مضطر حجاب نور ہے
۴
لب پہ موج حسن جب چمکے تبسم نام ہورب ارنی کہہ کے چیخ اٹھوں تو برق طور ہے
۵
نور آنکھوں میں اسی کا جلوہ خود نور محیطدید کیا ہے کچھ تلاطم میں ہجوم نور ہے
۶
آنکھ ہے جب محو حیرت تو نمایاں ہے وہیفکر ہو جب کار فرما تو وہی مستور ہے
۷
دیکھتا ہوں میں کہ ہے بحر حقیقت جوش پرجو حباب اٹھ اٹھ کے مٹتا ہے سر منصور ہے
۳۴ / ۳۹