کلامِ اصغرردیف ے

گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھے

۱

گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھےملتی ہے اب انہیں سے کچھ اپنی خبر مجھے

۲

نالوں سے میں نے آگ لگا دی جہان میںصیاد جانتا تھا فقط مشت پر مجھے

۳

اللہ رے ان کے جلوے کی حیرت فزائیاںیہ حال ہے کہ کچھ نہیں آتا نظر مجھے

۴

مانا حریم ناز کا پایہ بلند ہےلے جائے گا اچھال کے درد جگر مجھے

۵

ایسا کہ بت کدے کا جسے راز ہو سپرداہل حرم میں کوئی نہ آیا نظر مجھے

۶

کیا درد ہجر اور یہ کیا لذت وصالاس سے بھی کچھ بلند ملی ہے نظر مجھے

۷

مست شباب وہ ہیں میں سرشار عشق ہوںمیری خبر انہیں ہے نہ ان کی خبر مجھے

۸

جب اصل اس مجاز و حقیقت کی ایک ہےپھر کیوں پھرا رہے ہیں ادھر سے ادھر مجھے

۳۵ / ۳۹