کلامِ اصغرردیف ے
ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے
۱
ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہےلطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہے
۲
معنی آدم کجا اور صورت آدم کجایہ نہاں خانے میں تھا اب تک نہاں خانے میں ہے
۳
خرمن بلبل تو پھونکا عشق آتش رنگ نےرنگ کو شعلہ بنا کر کون پروانے میں ہے
۴
جلوۂ حسن پرستش گرمئ حسن نیازورنہ کچھ کعبے میں رکھا ہے نہ بت خانے میں ہے
۵
رند خالی ہاتھ بیٹھے ہیں اڑا کر جزو و کلاب نہ کچھ شیشے میں ہے باقی نہ پیمانے میں ہے
۶
میں یہ کہتا ہوں فنا کو بھی عطا کر زندگیتو کمال زندگی کہتا ہے مر جانے میں ہے
۷
جس پہ بت خانہ تصدق جس پہ کعبہ بھی نثارایک صورت ایسی بھی سنتے ہیں بت خانے میں ہے
۸
کیا بہار نقش پا ہے اے نیاز عاشقیلطف سر رکھنے میں کیا سر رکھ کے مر جانے میں ہے
۹
بے خودی میں دیکھتا ہوں بے نیازی کی اداکیا فنائے زندگی خود حسن بن جانے میں ہے
۳۶ / ۳۹