کلامِ اصغرردیف ے
اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہے
۱
اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہےحیرت بھی یہ حیرت ہے کہ کیا جانیے کیا ہے
۲
سو بار جلا ہے تو یہ سو بار بنا ہےہم سوختہ جانوں کا نشیمن بھی بلا ہے
۳
ہونٹوں پہ تبسم ہے کہ اک برق بلا ہےآنکھوں کا اشارہ ہے کہ سیلاب فنا ہے
۴
سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستیکچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے
۵
ہے تیرے تصور سے یہاں نور کی بارشیہ جان حزیں ہے کہ شبستان حرا ہے
۳۷ / ۳۹