کلامِ اصغرردیف ی

یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھی

۱

یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھیمیری رگ رگ میں ہے اک آتش بے نام ابھی

۲

عاشقی کیا ہے ہر اک شے سے تہی ہو جانااس سے ملنے کی ہے دل میں ہوس خام ابھی

۳

انتہا کیف کی افتادگی و پستی ہےمجھ سے کہتا تھا یہی درد تہ جام ابھی

۴

علم و حکمت کی تمنا ہے نہ کونین کا غممیرے شیشے میں ہے باقی مئے گلفام ابھی

۵

سب مزے کر دیئے خورشید قیامت نے خرابمیری آنکھوں میں تھا اک روئے دلارام ابھی

۶

بلبل زار سے گو صحن چمن چھوٹ گیااس کے سینے میں ہے اک شعلۂ گلفام ابھی

۱۶ / ۳۹