کلامِ اصغرردیف ی

ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی

۱

ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دیزبان بے نگہ رکھ دی نگاہ بے زباں رکھ دی

۲

مٹی جاتی تھی بلبل جلوۂ گل ہائے رنگیں پرچھپا کر کس نے ان پردوں میں برق آشیاں رکھ دی

۳

نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداںہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی

۴

قفس کی یاد میں یہ اضطراب دل معاذ اللہکہ میں نے توڑ کر ایک ایک شاخ آشیاں رکھ دی

۵

کرشمے حسن کے پنہاں تھے شاید رقص بسمل میںبہت کچھ سوچ کر ظالم نے تیغ خوں فشاں رکھ دی

۶

الٰہی کیا کیا تو نے کہ عالم میں تلاطم ہےغضب کی ایک مشت خاک زیر آسماں رکھ دی

۱۷ / ۳۹