کلامِ اصغرردیف ن

عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں

۱

عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیںتیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیں

۲

دونوں عالم تری نیرنگ ادائی کے نثاراب کوئی چیز یہاں جیب محبت میں نہیں

۳

دولت قرب کو خاصان محبت جانیںچند اشکوں کے سوا کچھ میری قسمت میں نہیں

۴

لوگ مرتے بھی ہیں، جیتے بھی ہیں، بیتاب بھی ہیںکون سا سحر تری چشم عنایت میں نہیں

۵

سب سے اک طرز جدا، سب سے اک آہنگ جدارنگ محفل میں ترا جو ہے وہ خلوت میں نہیں

۶

نشۂ عشق میں ہر چیز اڑی جاتی ہےکون ذرہ ہے کہ سرشار محبت میں نہیں

۷

دعوئ دید غلط دعوئ عرفاں بھی غلطکچھ تجلی کے سوا چشم بصیرت میں نہیں

۸

ہو گئی جمع متاع غم حرماں کیوں کرمیں سمجھتا تھا کوئی پردۂ غفلت میں نہیں

۹

ذرے ذرے میں کیا جوش ترنم پیداخود مگر کوئی نوا ساز محبت میں نہیں

۱۰

نجد کی سمت سے یہ شور انا لیلیٰ کیوںشوخیٔ حسن اگر پردۂ وحشت میں نہیں

۱۵ / ۳۹