کلامِ اصغرردیف ی
سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کی
۱
سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کیمیں نے پوری شکل دکھلا دی دل ناشاد کی
۲
اب یہی ہے وجہ تسکیں خاطر ناشاد کیزندگی میں نے دیار حسن میں برباد کی
۳
ہوش پر بجلی گری، آنکھیں بھی خیرہ ہو گئیںتم تو کیا تھے، اک جھلک سی تھی تمہاری یاد کی
۴
چل دیا مجنوں تو صحرا سے کسی جانب مگراک صدا گونجی ہوئی ہے نالہ و فریاد کی
۵
نغمۂ پر درد چھیڑا میں نے اس انداز سےخود بہ خود مجھ پر نظر پڑنے لگی صیاد کی
۶
دل ہوا مجبور جس دم اشک حسرت بن گیاروح جب تڑپی تو صورت بن گئی فریاد کی
۷
اس حریم قدس میں کیا لفظ و معنی کا گزرپھر بھی سب باتیں پہنچتی ہیں لب فریاد کی
۸
تمتما اٹھے وہ عارض میرے عرض شوق پرحسن جاگ اٹھا وہیں جب عشق نے فریاد کی
۹
آشیاں میں اب کسی صورت نہیں پڑتا ہے چینتھی نظر تاثیر میں ڈوبی ہوئی صیاد کی
۱۰
شعر میں رنگینی جوش تخیل چاہیئےمجھ کو اصغرؔ کم ہے عادت نالہ و فریاد کی
۱۸ / ۳۹