کلامِ اصغرردیف ن

صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیں

۱

صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیںمیں فقط درد ہوں جس میں کوئی آواز نہیں

۲

مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجےمیں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں

۳

وہ مزے ربط نہانی کے کہاں سے لاؤںہے نظر مجھ پہ مگر اب غلط انداز نہیں

۴

پھر یہ سب شورش‌ و ہنگامۂ عالم کیا ہےاسی پردے میں اگر حسن جنوں ساز نہیں

۵

آتش‌ جلوۂ محبوب نے سب پھونک دیااب کوئی پردہ نہیں پردہ بر انداز نہیں

۱۰ / ۳۹