کلامِ اصغرردیف ن

پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میں

۱

پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میںپھر کیا کروں گا لے کے الٰہی اثر کو میں

۲

آشوب گاہ حشر مجھے کیوں عجیب ہوجب آج دیکھتا ہوں تری رہ گزر کو میں

۳

ایسا بھی ایک جلوہ تھا اس میں چھپا ہوااس رخ پہ دیکھتا ہوں اب اپنی نظر کو میں

۴

جینا بھی آ گیا مجھے مرنا بھی آ گیاپہچاننے لگا ہوں تمہاری نظر کو میں

۵

وہ شوخیوں سے جلوہ دکھا کر تو چل دیےان کی خبر کو جاؤں کہ اپنی خبر کو میں

۶

آہوں نے میری خرمن ہستی جلا دیاکیا منہ دکھاؤں گا تری برق نظر کو میں

۷

باقی نہیں جو لذت بیداری فناپھر کیا کروں گا زندگی بے اثر کو میں

۸

اصغرؔ مجھے جنوں نہیں لیکن یہ حال ہےگھبرا رہا ہوں دیکھ کے دیوار و در کو میں

۱۱ / ۳۹