کلامِ اصغرردیف ن

موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں

۱

موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میںیا خون اچھل رہا ہے رگ ماہتاب میں

۲

وہ موت کہ کہتے ہیں جس کو سکون سبوہ عین زندگی ہے جو ہے اضطراب میں

۳

دوزخ بھی ایک جلوۂ فردوس حسن ہےجو اس سے بے خبر ہے وہی ہے عذاب میں

۴

اس دن بھی میری روح تھی محو نشاط دیدموسیٰ الجھ گئے تھے سوال و جواب میں

۵

میں اضطراب شوق کہوں یا جمال دوستاک برق ہے جو کوندھ رہی ہے نقاب میں

۱۲ / ۳۹