کلامِ اصغرردیف ن

گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں

۱

گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاںخون ہے کچھ جما ہوا قلب کہاں جگر کہاں

۲

ہے یہ طریق عاشقی چاہیئے اس میں بے خودیاس میں چناں چنیں کہاں اس میں اگر مگر کہاں

۳

زلف تھی جو بکھر گئی رخ تھا کہ جو نکھر گیاہائے وہ شام اب کہاں ہائے وہ اب سحر کہاں

۴

کیجیے آج کس طرح دوڑ کے سجدۂ نیازیہ بھی تو ہوش اب نہیں پاؤں کہاں ہے سر کہاں

۵

ہائے وہ دن گزر گئے جوشش اضطراب کےنیند قفس میں آ گئی اب غم بال و پر کہاں

۶

ہوش و خرد کے پھیرے میں عمر عزیز صرف کیرات تو کٹ گئی یہاں دیکھیے ہو سحر کہاں

۱۴ / ۳۹