جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا

کیا ہے وعدۂ فردا انہوں نے دیکھیے کیا ہویہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا

About this couplet

This is couplet 4 of 17 in “⁨جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۷