جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
یہ مشتاق شہادت کس جگہ جائیں کسے ڈھونڈیںکہ تیرا کام قاتل جب تجھی سے ہو نہیں سکتا
About this couplet
This is couplet 5 of 17 in “جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (کلامِ داغ).
Read it in the poem۵ / ۱۷