جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا

مرا دشمن بظاہر چار دن کو دوست ہے تیراکسی کا ہو رہے یہ ہر کسی سے ہو نہیں سکتا

About this couplet

This is couplet 7 of 17 in “⁨جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۷ / ۱۷