جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا

پرسش کہوگے کیا وہاں جب یاں یہ صورت ہےادا اک حرف وعدہ نازکی سے ہو نہیں سکتا

About this couplet

This is couplet 8 of 17 in “⁨جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۸ / ۱۷