کلامِ داغردیف الف
اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا
اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کادوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کا
کیا چھپے راز الٰہی دل شیدائی کاعرصۂ حشر تو بازار ہے رسوائی کا
جان لے جائے گا آنا شب تنہائی کاکون اب روکنے والا ہے مری آئی کا
خوگر رنج و بلا حشر کے دن کیا خوش ہوںکہ وہ مال آج ہوا ہے شب تنہائی کا
زندہ ہے نام شہادت کا اسی کے دم سےتیرے کشتہ نے کیا کام مسیحائی کا
ہر گلی کوچے میں پامال اسے ہو جانادل ہے یا نقش قدم ہے کسی ہرجائی کا
اس ادب سے تہہ شمشیر تڑپنا اے دلکہ گماں تیری تپش پر ہو شکیبائی کا
فتنے بھی قاعدے سے اٹھتے ہیں جب اٹھتے ہیںکیا سلیقہ ہے تمہیں انجمن آرائی کا
وہ یہ کہتے ہیں مرا صبر پڑے گا تجھ پراب مجھے رنج نہیں اپنی شکیبائی کا
کیا غرض ہے مری تقدیر کو مجھ سے پوچھےآبرو کا ہے طلب گار کہ رسوائی کا
واں شب وعدہ ملی پاؤں میں مہندی اس نےیاں کلیجا کوئی ملتا ہے تمنائی کا
رات بھر شمع رہی ہجر میں وہ بھی خاموشملتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا
سر مرا کاٹ کے دہلیز پر اپنی رکھ دوشوق باقی ہے ابھی ناصیہ فرسائی کا
یوں نہ مقبول ہوا ہوگا کسی کا سجدہبت کو ارمان رہا میری جبیں سائی کا
ہو گیا پرتو رخسار سے کچھ اور ہی رنگمیں نے منہ چوم لیا اس کے تماشائی کا
تھم گئے جم گئے آنکھوں میں لہو کے قطرےخون ظاہر ہے مرے صبر و شکیبائی کا
بن گیا داغ جگر مہر قیامت اے داغؔپر ابھی رنگ وہی ہے شب تنہائی کا
۵ / ۱۷۹