کلامِ داغردیف الف

ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا

۱

ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھاحقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا

۲

تجھے دیکھ کر وہ دوئی اٹھ گئی ہےکہ اپنا بھی ثانی نہ دیکھا نہ دیکھا

۳

ان آنکھوں کے قربان جاؤں جنہوں نےہزاروں حجابوں میں پروانہ دیکھا

۴

نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیںنہ ڈھونڈا نہ پایا نہ سمجھا نہ دیکھا

۵

مریضان الفت کی کیا بے کسی ہےمسیحا کو بھی چارہ فرما نہ دیکھا

۶

بہت درد مندوں کو دیکھا ہے تو نےیہ سینہ یہ دل یہ کلیجا نہ دیکھا

۷

وہ کب دیکھ سکتا ہے اس کی تجلیجس انسان نے اپنا جلوا نہ دیکھا

۸

بہت شور سنتے تھے اس انجمن کایہاں آ کے جو کچھ سنا تھا نہ دیکھا

۹

صفائی ہے باغ محبت میں ایسیکہ باد صبا نے بھی تنکا نہ دیکھا

۱۰

اسے دیکھ کر اور کو پھر جو دیکھےکوئی دیکھنے والا ایسا نہ دیکھا

۱۱

وہ تھا جلوہ آرا مگر تو نے موسیٰنہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا

۱۲

گیا کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہاذرا میرے آنے کا رستا نہ دیکھا

۱۳

کہاں نقش اول کہاں نقش ثانیخدا کی خدائی میں تجھ سا نہ دیکھا

۱۴

تری یاد ہے یا ہے تیرا تصورکبھی داغؔ کو ہم نے تنہا نہ دیکھا

۶ / ۱۷۹