کلامِ داغردیف الف
عذر ان کی زبان سے نکلا
عذر ان کی زبان سے نکلاتیر گویا کمان سے نکلا
وہ چھلاوا اس آن سے نکلاالاماں ہر زبان سے نکلا
خار حسرت بیان سے نکلادل کا کانٹا زبان سے نکلا
فتنہ گر کیا مکان سے نکلاآسماں آسمان سے نکلا
آ گیا غش نگاہ دیکھتے ہیمدعا کب زبان سے نکلا
کھا گئے تھے وفا کا دھوکا ہمجھوٹ سچ امتحان سے نکلا
دل میں رہنے نہ دوں ترا شکوہدل میں آیا زبان سے نکلا
وہم آتے ہیں دیکھیے کیا ہووہ اکیلا مکان سے نکلا
تم برستے رہے سر محفلکچھ بھی میری زبان سے نکلا
سچ تو یہ ہے معاملہ دل کاباہر اپنے گمان سے نکلا
اس کو آیت حدیث کیا سمجھیںجو تمہاری زبان سے نکلا
پڑ گیا جو زباں سے تیری حرفپھر نہ اپنے مکان سے نکلا
دیکھ کر روئے یار صل علیٰبے تحاشا زبان سے نکلا
لو قیامت اب آئی وہ کافربن بنا کر مکان سے نکلا
مر گئے ہم مگر ترا ارماندل سے نکلا نہ جان سے نکلا
رہرو راہ عشق تھے لاکھوںآگے میں کاروان سے نکلا
سمجھو پتھر کی تم لکیر اسےجو ہماری زبان سے نکلا
بزم سے تم کو لے کے جائیں گےکام کب پھول پان سے نکلا
کیا مروت ہے ناوک دل دوزپہلے ہرگز نہ جان سے نکلا
تیرے دیوانوں کا بھی لشکر آجکس تجمل سے شان سے نکلا
مڑ کے دیکھا تو میں نے کب دیکھادور جب پاسبان سے نکلا
وہ ہلے لب تمہارے وعدے پروہ تمہاری زبان سے نکلا
اس کی بانکی ادا نے جب مارادم مرا آن تان سے نکلا
میرے آنسو کی اس نے کی تعریفخوب موتی یہ کان سے نکلا
ہم کھڑے تم سے باتیں کرتے تھےغیر کیوں درمیان سے نکلا
ذکر اہل وفا کا جب آیاداغؔ ان کی زبان سے نکلا
۱۲ / ۱۷۹