کلامِ داغردیف الف

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

۱

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیاتمام رات قیامت کا انتظار کیا

۲

کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیامری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

۳

ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیاتسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا

۴

یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیاکہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا

۵

سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیااگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا

۶

نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیاشب وصال بھی میں نے تو انتظار کیا

۷

تجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھایہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا

۸

یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیشانہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا

۹

کہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالمبہ تنگ آئے تو حال دل آشکار کیا

۱۰

تڑپ پھر اے دل ناداں کہ غیر کہتے ہیںاخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیا

۱۱

ملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینیتمام رات دل مضطرب کو پیار کیا

۱۲

بھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو راز نہاںچھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیا

۱۳

نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتاصبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا

۱۴

ہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتامگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا

۱۵

ہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجرشب وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیا

۱۶

رقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہےوہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیا

۱۷

زبان خار سے نکلی صدائے بسم اللہجنوں کو جب سر شوریدہ پر سوار کیا

۱۸

تری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتللگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا

۱۹

غضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکہ میںہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیا

۲۰

ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والاکہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا

۲۱

نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیںوہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا

۲۲

جب ان کو طرز ستم آ گئے تو ہوش آیابرا ہو دل کا برے وقت ہوشیار کیا

۲۳

فسانۂ شب غم ان کو اک کہانی تھیکچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا

۲۴

اسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہیتمام طرۂ طرار تار تار کیا

۲۵

کچھ آ گئی داور محشر سے ہے امید مجھےکچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیا

۲۶

کسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھیکہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیا

۲۷

فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھےاخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا

۲۸

وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکےستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا

۲۹

بنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہجو چہرہ داغؔ سیہ رو نے آشکار کیا

۱۴ / ۱۷۹