کلامِ داغردیف الف
دل مبتلائے لذت آزار ہی رہا
۱
دل مبتلائے لذت آزار ہی رہامرنا فراق یار میں دشوار ہی رہا
۲
ہر دم یہ شوق تھا اسے قربان کیجئےمیں وصل میں بھی جان سے بے زار ہی رہا
۳
احسان عفو جرم سے وہ شرمسار ہوںبخشا گیا میں تو بھی گنہ گار ہی رہا
۴
ہوتی ہیں ہر طرح سے مری پاسداریاںدشمن کے پاس بھی وہ مرا یار ہی رہا
۵
دن پہلوؤں سے ٹال دیا کچھ نہ کہہ سکےہر چند ان کو وصل کا انکار ہی رہا
۶
زاہد کی توبہ توبہ رہی گھونٹ گھونٹ پرسو بوتلیں اڑا کے بھی ہشیار ہی رہا
۷
دیکھیں ہزار رشک مسیحا کی صورتیںاچھا رہا جو عشق کا بیمار ہی رہا
۸
صدقے میں تم نے چھوڑ دیئے ہیں بہت اسیرمیں بھی رہا ہوا کہ گرفتار ہی رہا
۹
لذت وفا میں ہے نہ کسی کی جفا میں ہےدل دار ہی رہا نہ دل آزار ہی رہا
۱۰
جلوہ کے بعد وصل کی خواہش ضرور تھیوہ کیا رہا جو عاشق دیدار ہی رہا
۱۱
کہتے ہیں جل کے غیر محبت سے داغؔ کیمعشوق اس کے پاس وفادار ہی رہا
۱۵ / ۱۷۹