کلامِ داغردیف الف
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتاکبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتاترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتاتمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا
غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتےیہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا
یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتینہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا
نہ مزا ہے دشمنی میں نہ ہے لطف دوستی میںکوئی غیر غیر ہوتا کوئی یار یار ہوتا
ترے وعدے پر ستم گر ابھی اور صبر کرتےاگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا
یہ وہ درد دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئیاگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا
گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشم مست دیکھیمجھے کیا الٹ نہ دیتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتےدر یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا
تمہیں ناز ہو نہ کیونکر کہ لیا ہے داغؔ کا دلیہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا
۱۶ / ۱۷۹