کلامِ داغردیف الف

ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہارا

۱

ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہاراابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہارا

۲

بتو دین و دنیا میں کافی ہے مجھ کوخدا کا بھروسہ سہارا تمہارا

۳

محبت کے دعوے ملے خاک میں سبوہ کہتے ہیں کیا ہے اجارہ تمہارا

۴

رکاوٹ نہ ہوتی تو دل ایک ہوتاتمہارا ہمارا ہمارا تمہارا

۵

نکل کر مرے گھر سے یہ جان لو تمنہ ہوگا کسی گھر گزارہ تمہارا

۶

سنا ہے کسی اور کو چاہتا ہےوہ دشمن ہمارا وہ پیارا تمہارا

۷

کریں گے سفارش ہم اے داغؔ ان سےاگر ذکر آیا دوبارہ تمہارا

۱۷ / ۱۷۹