کلامِ داغردیف الف
غم اس پر آشکار کیا ہم نے کیا کیا
۱
غم اس پر آشکار کیا ہم نے کیا کیاغافل کو ہوشیار کیا ہم نے کیا کیا
۲
ہاں ہاں تڑپ تڑپ کے گزاری تمہیں نے راتتم نے ہی انتظار کیا ہم نے کیا کیا
۳
اترا رہا ہے نقد محبت پہ دل بہتاچھے کو مال دار کیا ہم نے کیا کیا
۴
کہتے ہیں وہ شکایت بیداد و جور پرتجھ کو خدا نے خوار کیا ہم نے کیا کیا
۵
ناصح بھی ہے رقیب یہ معلوم ہی نہ تھاکس کو صلاح کار کیا ہم نے کیا کیا
۶
رسوا کیا جو دل نے تو اب کہہ رہے ہیں داغؔدشمن کو رازدار کیا ہم نے کیا کیا
۱۸ / ۱۷۹