کلامِ داغردیف الف
شوق ہے اس کو خود نمائی کا
۱
شوق ہے اس کو خود نمائی کااب خدا حافظ اس خدائی کا
۲
ہنسی آتی ہے اپنے رونے پراور رونا ہے جگ ہنسائی کا
۳
اور تو ہم کو کچھ نہیں آتاکام کرتے ہیں آشنائی کا
۴
دل ترا صاف ہو نہیں سکتاہیچ ہے محکمہ صفائی کا
۵
بت کدہ کی جو سیر کی ہم نےکارخانہ ہے اک خدائی کا
۶
گرچہ پہنچا ہوں میں کہیں سے کہیںمرحلہ دور ہے رسائی کا
۷
نہ رہا لطف اس زمانے میںمیرزا داغؔ میرزائی کا
۱۹ / ۱۷۹