کلامِ داغردیف الف

عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتا

۱

عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتاآگے بڑھتے تو کچھ پتہ ملتا

۲

زر ملا گھر ملا غلام ملامیں نہ ملتا تو تم کو کیا ملتا

۳

غیر سے مل کے کیا لیا تم نےہم سے ملتے تو کچھ مزہ ملتا

۴

عاشقی سے ملے گا اے زاہدبندگی سے نہیں خدا ملتا

۵

اک نہ اک ہم لگائے رکھتے ہیںتم نہ ملتے تو دوسرا ملتا

۶

روز اک دل لگی نئی ہوتیروز اک دل مجھے نیا ملتا

۷

تم کو یہ مل گیا ہے قسمت سےداغؔ سا ورنہ دوسرا ملتا

۲۰ / ۱۷۹