کلامِ داغردیف الف

سو حسرتیں تو آئیں گیا ایک دل گیا

۱

سو حسرتیں تو آئیں گیا ایک دل گیاملنا تھا جو مجھے مری قسمت کا مل گیا

۲

اس نے لیا جو آئنے میں بوسہ اپنا آپاللہ رے نازکی لب گلفام چھل گیا

۳

اللہ رے جامہ زیب تری جامہ زیبیاںپہنا جو تو نے رنگ وہی رنگ کھل گیا

۴

جنت اسی کا نام اگر ہے تو بس سلاممحفل میں تیری جو کوئی آیا خجل گیا

۵

میں نے تو اپنے واسطے کی تھی دعائے وصلالٹا اثر ہوا وہ رقیبوں سے مل گیا

۶

ہستی میں ہیں عدم کے مزے عاشقوں کو داغؔقالب میں جان آتے ہی پہلو سے دل گیا

۲۱ / ۱۷۹