کلامِ داغردیف الف

دل مکدر مدام کا نکلا

۱

دل مکدر مدام کا نکلاکب یہ آئینہ کام کا نکلا

۲

بحث تھی مے کشی میں زاہد سےعذر ماہ صیام کا نکلا

۳

یہ سنا ہے کہ اب وہ ہرجائیصبح آتا ہے شام کا نکلا

۴

دل کے ملنے کی پھر امید نہیںیہ اگر اس کے کام کا نکلا

۵

واہ کیا کیا تری محبت میںحوصلہ خاص و عام کا نکلا

۶

سچ تو یہ ہے کہ عاشقی میں داغؔایک ہی اپنے نام کا نکلا

۲۲ / ۱۷۹