کلامِ داغردیف الف
چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیا
۱
چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیاسر پہ احسان رہے اس لیے سر چھوڑ دیا
۲
ٹکڑے ٹکڑے کیا ناصح کا گریباں میں نےشکر ہے اس نے مرا دامن تر چھوڑ دیا
۳
کام سب خانہ خرابی کے ہوئے ہیں تجھ سےرحم کھا کر تجھے اے دیدۂ تر چھوڑ دیا
۴
پھر کہاں تھا نہ یہاں تھا نہ وہاں تھا وہ شوخدامن اس کا جو سر راہ گزر چھوڑ دیا
۵
لے گئی تھی ترے دیوانہ کو گھر سے وحشتنہیں معلوم کہ جنگل میں کدھر چھوڑ دیا
۶
داغؔ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانہ کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا
۲۸ / ۱۷۹