کلامِ داغردیف الف

فتنہ گر کیا مکان سے نکلا

۱

فتنہ گر کیا مکان سے نکلاآسماں آسمان سے نکلا

۲

دل میں رہنے نہ دوں ترا شکوہدل میں آیا زبان سے نکلا

۳

وہم آتے ہیں دیکھیے کیا ہووہ اکیلا مکان سے نکلا

۴

سچ تو یہ ہے معاملہ دل کاباہر اپنے گمان سے نکلا

۵

میرے آنسو کی اس نے کی تعریفخوب موتی یہ کان سے نکلا

۶

ہم کھڑے تم سے باتیں کرتے تھےغیر کیوں درمیان سے نکلا

۷

ذکر اہل وفا کا جب آیاداغؔ ان کی زبان سے نکلا

۲۹ / ۱۷۹