کلامِ داغردیف الف

پھر دیکھتے عیش آدمی کا

۱

پھر دیکھتے عیش آدمی کابنتا جو فلک مری خوشی کا

۲

گلشن میں ترے لبوں نے گویارس چوس لیا کلی کلی کا

۳

تیرا بھی تو حسن ہے دغابازہوتا ہی نہیں کوئی کسی کا

۴

اتنی ہی تو بس کسر ہے تم میںکہنا نہیں مانتے کسی کا

۵

ہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھےمنہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا

۶

تم کوچہ غیر میں نہ جانااس راہ میں ہے گزر کسی کا

۷

کس کس نے لئے ہیں تیرے بوسےہے لعل نمک فشاں جو پھیکا

۸

جو دم ہے وہ ہے بسا غنیمتسارہ سودا ہے جیتے جی کا

۹

آغاز کو کون پوچھتا ہےانجام اچھا ہو آدمی کا

۱۰

روکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمتآنا جانا کبھی کبھی کا

۱۱

کہتے ہیں اسے زبان اردوجس میں نہ ہو رنگ فارسی کا

۱۲

ایسے سے جو داغؔ نے نباہیسچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا

۳۰ / ۱۷۹