کلامِ داغردیف الف
کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا
کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیادیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا
میرے قابو میں نہ پہروں دل ناشاد آیاوہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا
کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیاکہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا
لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میںکس مصیبت سے ترا کشتۂ بیداد آیا
جذب وحشت ترے قربان ترا کیا کہناکھنچ کے رگ رگ میں مرے نشتر فصاد آیا
اس کے جلوے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھاداد لینے کے لیے حسن خداداد آیا
بستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہےجو کیا تو نے وہ آگے ترے فرہاد آیا
دل ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیںکام کس کس کے مرا خرمن برباد آیا
عشق کے آتے ہی منہ پر مرے پھولی ہے بسنتہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا
ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھناجب مرے ہاتھ کوئی خامۂ فولاد آیا
عید ہے قتل مرا اہل تماشا کے لیےسب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا
چین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والےکام عقبیٰ میں ہمارا دل ناشاد آیا
دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی راتہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
میرے نالے نے سنائی ہے کھری کس کس کومنہ فرشتوں پہ یہ گستاخ یہ آزاد آیا
غم جاوید نے دی مجھ کو مبارک بادیجب سنا یہ کہ انہیں شیوۂ بیداد آیا
میں تمنائے شہادت کا مزا بھول گیاآج اس شوق سے ارمان سے جلاد آیا
شادیانہ جو دیا نالہ و شیون نے دیاجب ملاقات کو ناشاد کی ناشاد آیا
لیجئے سنئے اب افسانۂ فرقت مجھ سےآپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغؔ نہیںہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا
۳۱ / ۱۷۹