کلامِ داغردیف الف

یوں وہ پیغام سے تو آئے گا

۱

یوں وہ پیغام سے تو آئے گاغیر کے نام سے تو آئے گا

۲

شب ہجراں سے موت بہتر ہےخواب آرام سے تو آئے گا

۳

یوں نہ آئے گا ہاتھ گر وہ صنمترک‌ اسلام سے تو آئے گا

۴

لے ہی تو آئیں گے اسے ہمدممیرے ہی نام سے تو آئے گا

۵

ساقیا مجھ سے بادہ کش کو سرورایک ہی جام سے تو آئے گا

۶

دل کا آنا ہے کام سے جاناجائے گا کام سے تو آئے گا

۷

کبھی اپنا بھی روز خوش اے داغؔدور ایام سے تو آئے گا

۳۲ / ۱۷۹