کلامِ داغردیف الف

گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھا

۱

گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھااس دیکھنے والے نے خدا کو نہیں دیکھا

۲

رہبر سے غرض کیا ہے جو منزل نظر آئےکعبے میں کہے قبلہ نما کو نہیں دیکھا

۳

جس شکل سے ہنستے ہیں مرے حال پہ احبابروتے ہوئے یوں اہل عزا کو نہیں دیکھا

۴

اتنا تو بتا دے مجھے اے ناصح مشفقدیکھا ہے کہ اس ماہ لقا کو نہیں دیکھا

۵

جب داغؔ کو ڈھونڈھا کسی بت خانے میں پایاگھر میں کبھی اس مرد خدا کو نہیں دیکھا

۳۳ / ۱۷۹